نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
ہمارے ساتھ حادثہ ہوا غلط

مجھے ملال بخت مل نہیں سکا
اسے یہ دکھ کہ فیصلہ ہوا غلط

نہ مسٸلہ تھا مسٸلہ جسے کوئی
اسی کے ساتھ مسٸلہ ہوا غلط

جو تھیں تو بے حساب تھیں محبتیں
حساب کا معاملہ ہوا غلط

بدل گیا ہے رنگ آستیں وصال
یہ ہاتھ ہاتھ رابطہ ہوا غلط

وصال عباسی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر

1 تبصرہ

Visal abbasi اگست 30, 2026 - 1:05 شام
بہترین
Add Comment