مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں
رنگ سوکھے ہوۓ اشجار میں آجاتے ہیں

سرمٸی رنگ شفق پھیلےفصیلِ شب پر
ان کے صدقے مری گفتار میں آجاتے ہیں

یہ عطا ان کے کرم کی ہے کہ ہم جیسے بھی
قریہء مدحتِ سرکار میں آجاتے ہیں

روشنی صبح افق سے سر خم آتی ہے
حرف جب نعت کے انوار میں آجاتے ہیں

نقش دل اسم محمد جو سجا لیتے ہیں
نخل صحرا سے وہ گلزار میں آ جاتے ہیں

وصال عباسی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر