مُجھے اسکول نہیں جانا

مُجھے اسکول نہیں جانا: ایک خاموش پکار
صبح کی پہلی روشنی آہستہ آہستہ کمرے میں پھیل رہی ہے۔ ہوا میں تازگی کے ساتھ بچوں کے ہنسنے کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ لیکن ایک کمرے میں ایک چھوٹا سا لڑکا، جس کے بستے میں کتابیں اور خواب بندھے ہونے چاہییں، آنکھیں موندے بستر پر بیٹھا ہے۔ اس کے ہونٹوں سے نرم مگر واضح جملہ نکلتا ہے: "مجھے اسکول نہیں جانا۔”
اکثر والدین ایسے لمحوں کو معمولی ضد یا سستی سمجھ لیتے ہیں۔ ماں کہتی ہے کہ بس بہانہ کر رہا ہے، باپ کہتا ہے کہ روز روز یہی حرکت کیوں؟ لیکن یہ چھوٹا سا جملہ دراصل ایک خاموش پکار ہے، ایک احساسِ کمتری یا خوف کی علامت ہے جو لفظوں سے باہر ہے۔

بچے کی اس ضد کے پیچھے کئی ممکنہ اسباب چھپے ہوتے ہیں۔ شاید کسی سخت مزاج استاد کی ڈانٹ نے اس کے دل میں خوف بٹھا دیا ہو۔ یا پھر کسی ہم جماعت کے طنز اور مذاق نے اسے دل برداشتہ کر دیا ہو۔ بعض اوقات وہ سبق سمجھ نہیں پاتا اور خود کو دوسروں سے کم تر محسوس کرتا ہے۔ یہ احساس کمتری، ڈر اور شرمندگی اسے صبح بستہ اٹھانے سے روک دیتی ہے۔ کبھی والدین کی زیادہ توقعات یا گھر میں کسی تنازعے کا دباؤ بھی اس رویے کا سبب بن سکتا ہے۔

اکثر والدین اور اساتذہ اس کیفیت کو سمجھنے کے بجائے بچوں کے اس رویے کو تنقید یا سزا کے ذریعے بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماں کہتی ہے "بس بہانہ چھوڑو”، باپ کہتا ہے "روز روز یہی ضد کیوں کرتے ہو؟” اور استاد کلاس میں کہہ دیتا ہے "پڑھائی میں دل نہیں لگاتا۔” یہ الفاظ بچے کے دل میں مزید خوف اور خود اعتمادی کی کمی پیدا کر دیتے ہیں۔ اس کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ والدین اور اساتذہ سب سے پہلے بچے کے دل کی کیفیت کو سمجھیں۔

جب بچہ کہے "مجھے اسکول نہیں جانا”، تو سب سے پہلے یہ نہ پوچھا جائے کہ "تمہیں اسکول کیوں پسند نہیں؟” بلکہ محبت اور شفقت سے پوچھا جائے: "اسکول میں تمہیں کیا چیز پریشان کرتی ہے؟”
یہ دو جملے بظاہر ایک جیسے لگتے ہیں مگر اثر میں زمین آسمان کا فرق رکھتے ہیں۔ پہلا جملہ الزام اور تنقید دیتا ہے، دوسرا سوال اعتماد اور تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔ پہلا جملہ دیوار کھڑی کرتا ہے، دوسرا دل کے دروازے کھول دیتا ہے۔

بچوں کے جذبات کو سمجھنا محض الفاظ سننے کا نام نہیں، بلکہ ان کی خاموشی، رویوں، آنکھوں کی حرکت، ہاتھ کے اشارے اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی کیفیت کو پہچاننا ہے۔ بعض اوقات بچہ الفاظ میں نہیں کہتا، مگر اس کی آنکھوں میں خوف اور ہاتھوں میں بے چینی صاف دکھائی دیتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کو یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر بچہ ایک الگ دنیا ہے، ہر ذہن کا رنگ الگ ہے اور ہر دل کے خوف کی نوعیت مختلف ہے۔

تعلیم کا اصل مقصد صرف کتابی علم حاصل کرنا نہیں ہے۔ تعلیم کا مقصد بچے کی شخصیت کی تعمیر، اعتماد کی بحالی اور زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ اگر اسکول کا ماحول خوف، تنقید اور موازنہ پیدا کرے تو بچہ علم سے نہیں بلکہ اس کے درد سے بھاگتا ہے۔ یہ ماحول بچے کے لیے تعلیمی سفر کو بوجھ اور تنہائی کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

معاشرتی پہلو بھی اہم ہیں۔ دوستوں کا مذاق، کلاس میں کسی کی تنقید، یا گروپ کے دباؤ نے کبھی کبھار بچے کے جذبات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ صرف گھر تک محدود نہ رہیں بلکہ بچے کے معاشرتی ماحول پر بھی نظر رکھیں۔ یہ دیکھیں کہ بچے کے دوست یا ہم جماعت کس طرح کے رویے رکھتے ہیں اور بچے ان سے کیسے متاثر ہو رہا ہے۔

اب عملی تجاویز کی بات کرتے ہیں:

بچے کی بات سنیں اور اسے بار بار موقع دیں کہ وہ اپنی کیفیت بیان کرے۔

اسے سزا یا تنقید کے بجائے محبت اور حوصلہ افزائی دیں۔

سوالات کو الزام دینے والے انداز میں نہ کریں بلکہ اعتماد پیدا کرنے والے انداز میں کریں۔

گھر اور اسکول میں مثبت ماحول بنائیں جہاں بچے کی کامیابیوں اور کوششوں کو سراہا جائے۔

اگر بچے کو سبق سمجھنے میں مشکل ہے تو اس کے لیے اضافی رہنمائی کا انتظام کریں۔

یہ تمام اقدامات بچے کے دل میں اعتماد پیدا کریں گے اور اس کے تعلیمی سفر کو خوشگوار بنائیں گے۔ "مجھے اسکول نہیں جانا” کوئی ضد نہیں، یہ ایک معصوم پکار ہے جو سزا نہیں، محبت مانگتی ہے۔ اگر والدین اور اساتذہ اس پکار کو سنیں، اسے سمجھیں اور اس پر عمل کریں تو وہ بچہ جو آج اسکول سے بھاگ رہا ہے، کل زندگی کے راستوں پر سب سے آگے بڑھتا ہوا نظر آئے گا۔

یوسف صدیقی

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے