مجھ کو اس بار بھی امکان میں رکھا گیا تھا

مجھ کو اس بار بھی امکان میں رکھا گیا تھا
میں سمجھتا تھا مجھے دھیان میں رکھا گیا تھا

آج بچوں کی عقیدت سے سمجھ آیا ھے
پھولوں کو کس لیے گلدان میں رکھا گیا تھا

فیصلہ اس لیے قانون کے برعکس ہوا
جیت کو ہار کے نقصان میں رکھا گیا تھا

خاک کو چھان کے تہذیب کا در کھولتا ھے
حوصلہ اس لیے انسان میں رکھا گیا تھا

کچھ نہ کچھ عیب تھا اس شہر کی دیواروں میں
سچ کی آواز کو زندان میں رکھا گیا تھا

رانا عثمان احامر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی