محبت کا کوئی اشارہ

محبت کا کوئی اشارہ تو دے
مری جاں مجھے تُو سہارا تو دے
نشے میں محبت کے ڈوبی رہوں
ان آنکھوں کو ایسا نظارہ تو دے
چمکتی رہوں میں زمیں پر سدا
مجھے یاد کا وہ ستارہ تو دے
مرا ہاتھ ہاتھوں میں تُو تھام لے
میں کشتی ہوں بڑھ کر سہارا تو دے
ہوائیں رُکیں، چاند بھی سو گیا
جگانے کا تُو استعارہ تو دے

ناہید ورک

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا