دردِ دل ایسا بڑھا خود اپنا درماں ہو گیا

دردِ دل ایسا بڑھا خود اپنا درماں ہو گیا
زندگی کا پھر مری پیدا اک امکاں ہو گیا
فاصلے ایسے پڑے ہیں درمیاں اپنے کہ دل
انتہائے ہم رہی کے بھی بیاباں ہو گیا
اوڑھ کر میں ضبط کی چادر چلی تھی تیرے ساتھ
پھر بھی ہر اک درد آنکھوں سے نمایاں ہو گیا
جھلملاتا تھا جو آنسو میری آنکھوں میں وہ اب
شدّتِ غم سے نکل کر تارِ مژگاں ہو گیا
دل کے آنگن میں دیا میں نے جلایا ہی نہیں
تیری آمد پر مگر پھر بھی چراغاں ہو گیا
جھٹپٹے کی ساعتوں کا ذکر اب ہم کیا کریں
دیکھتے ہی دیکھتے غم موسمِ جاں ہو گیا

ناہید ورک

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان