محبت کی ریت پر

محبت کے سمندر کا کنارا ، دیکھتے ہیں
ہوا کے نرم جھونکوں کا سہارا، دیکھتے ہیں

قدم جب ریت پر رکھے، تو دل کہنے لگا
یہ لمحہ خوبصورت ہے، دوبارہ ، دیکھتے ہیں

تمہاری انگلیوں کا لمس دل کو چھو گیا
یہ جذبہ، یہ جنون، یہ نظارہ ، دیکھتے ہیں

نگاہیں آسمانوں کی گواہی بن گئیں
چلو خوابوں کی دنیا کا اشارہ ، دیکھتے ہیں

یہ ساحل، یہ ہوائیں، یہ عشق کی داستان شاکرہ
ہم اپنی زندگی کا شاہکارہ ، دیکھتے ہیں

شاکرہ نندنی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی