میر ایک دم نہ اس بن تو تو جیا پیارے

میر ایک دم نہ اس بن تو تو جیا پیارے
کیا کہہ کے تجھ کو روویں یہ کیا کیا پیارے

رنگین ہم تو تجھ کو ایسا نہ جانتے تھے
تو نے تو عاشقوں کا لوہو پیا پیارے

دل کے تو زخم کا کچھ ہوتا نہیں تدارک
گو چاک سینہ تو نے میرا سیا پیارے

اس دام گاہ میں ہم جوں صید نیم بسمل
تڑپے بہت پہ تو نے کب دل لیا پیارے

ہو داغ میر تجھ بن مر بھی گیا ولے تو
آیا نہ گور پر ٹک لے کر دیا پیارے

میر تقی میر

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے