منبر کو دیکھیے نہ ہی دستار دیکھیے

منبر کو دیکھیے نہ ہی دستار دیکھیے
واعظ کا دیکھنا ہے تو کردار دیکھیے

اب عشق کے جنوں میں وہ شدت نہیں رہی
اب دل لگی کے گرم ہیں بازار دیکھیے

میں شعر کہہ رہا ہوں مضافات میں مگر
مجھ کو نہ دیکھیے مِرے اشعار دیکھیے

بغض و اَنا ،حَسَد ہے جو دل میں بھرا ہوا
اس کو نکال پھینکئے ،پھر پیار دیکھیے

ظافِرؔ مشقتوں سے ہی ملتا ہے سچ کہیں
ہر سو لگے ہیں جھوٹ کے انبار دیکھیے

محمد اویس ظافِر

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں