خود فریبی ہے کہ انجام بدل لیتے ہیں

خود فریبی ہے کہ انجام بدل لیتے ہیں
ہو کے بدنام سبھی نام بدل لیتے ہیں

بے وفا لوگ بھی موجود ہیں اس بستی میں
جو بیانات سرِ عام بدل لیتے ہیں

اس لئے اُن سے ملاقات نہیں ہو پائی
وہ کبھی صبح، کبھی شام بدل لیے ہیں

مشورہ دیجیے کوئی ہمیں خوشخالی کا
آپ کہتے ہیں تو ہم کام بدل لیتے ہیں

تیز بارش میں ٹپکتی ہے کبھی چھت اپنی
تو خیالوں میں در و بام بدل لیتے ہیں

کیوں خریدیں گے بھلا ان کی محبت ظافِرؔ
مفلسی دیکھ کے جو دام بدل لیتے ہیں

محمد اویس ظافِر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا