مل کر بھی اگر پُرسشِ حالات نہ کرنا

مل کر بھی اگر پُرسشِ حالات نہ کرنا
اچھا ہے یہی پھر تو ملاقات نہ کرنا

اس عشق کی آتش کے تسلسل میں مزہ ہے
رم جھم سے برستے رہو برسات نہ کرنا

دو چار ہی ملتے ہیں مقدر سے جہاں میں
یاروں سے مری جان کبھی ہاتھ نہ کرنا

اک اپنا سلیقہ ہے میاں جام و سبو کا
نشئے میں بھی توہینِ خرابات نہ کرنا

دل جن کے ملے ہوں وہ تکلم نہیں کرتے
تم مجھ سے ملو گے تو کوئی بات نہ کرنا

پردے سے زرِ حُسن کی سائل پہ نمائش
اس پہ یہ بخیلی بھی کہ خیرات نہ کرنا

جب مجھ کو زمیں چھوڑ کے جانا ہے تو خالد
پھر کیسے کہوں سیرِ سماوات نہ کرنا

خالد سجاد

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا