چشمِ گریہ ترے رونے کے بہانے کتنے

چشمِ گریہ ترے رونے کے بہانے کتنے
اس کھنڈر سے بھی نکل آئے خزانے کتنے

تُو نے پردیس نہیں دیکھا تجھے کیا معلوم
یاد آتے ہیں یہاں دوست پرانے کتنے

شاخ در شاخ پرندوں کو خبر ہوتی ہے
پیڑ اک رات میں بدلے ہیں ہوا نے کتنے

ہاتھ کی ریت پھسلنے سے یہ اندازہ ہوا
ہم نے عجلت میں گزارے ہیں زمانے کتنے

میں نے اک بار وظیفے میں پکارا ماں کو
ورد کرنے لگے تسبیح کے دانے کتنے

ہم بھی اک روز چلے جائیں گے ایسے خالد
جیسے دنیا سے گئے لوگ نجانے کتنے

 

خالد سجاد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے