مرے ہم نشیں

مرے ہم نشیں

’’میں تیری سانسوں کی تاروں میں ہوں
آسماں پر چمکتے ہوئے سب ستاروں میں ہوں
میں ۔ ۔ ۔  سمندر کی ہر اک لہر میں
ترے گزرے ہر پہر میں ہوں
تری آنکھ میں تیرتی سب گلابی
مرے نام کی ہے
ترے لہجے کی سب تھکن
میری ہی یاد کی ہے ‘‘
مرے ہم نشیں
تُو یہ کہتا ہے
’’بن تیرے ہر سانس گھائل ہے
پر کیا کروں
بیچ میں زمانہ یہ حائل ہے‘‘
اے ہم نشیں سچ بتا
کیا ترا دل بھی قائل ہے
کہ بیچ اپنے زمانہ ہی حائل ہے؟

ناہید ورک

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے