میری یادیں میری باتیں بس اپنے پاس رکھنا تم

سنو جاناں….
کیوں دوری کو لے کر
یوں تم اداس رہتی ہو؟
بھلے تم دور ہو مجھ سے
مگر ہر پل ہر لمحہ
دل کے پاس رہتی ہو
قسم جاناں تمہیں میری
کہ اب اس دوری کو لے کر
نہ دل اداس رکھنا تم
مجھے موجود پاٶ گی
میری یادیں میری باتیں
بس اپنے پاس رکھنا تم
فاصلے جو مقدر ہیں
ہمیشہ تو نہیں رہنے
ہنسی چہرے کِھلائے گی
سدا تو اشک نہیں بہنے
مقدر مہرباں ہو گا
ملن کی آس رکھنا تم
کہ اب اس دوری کو لے کر
نہ دل اداس رکھنا تم
کڑا ہے وقت یہ جاناں
مگر تم حوصلہ رکھنا
میرے وعدوں پہ تم جاناں
بھروسے کو بنا رکھنا
میری چاہت کا، جذبوں کا
سدا بس پاس رکھنا تم
کہ اب اس دوری کو لے کر
نہ دل اداس رکھنا تم
ہمیں اک جان ہونا ہے
اور اک تقدیر ہونا ہے
تمہارے سنگ ہی خوابوں کو
میرے تعبیر ہونا ہے
اپنے ہر خواب کو جاناں
ہمیشہ خاص رکھنا تم
کہ اب اس دوری کو لے کر
نہ دل اداس رکھنا تم

طارق اقبال حاوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان