مری حیرت نہیں تھی میرے بس میں

مری حیرت نہیں تھی میرے بس میں
عجب منظر تھا میرے پیش و پس میں

وہاں پر مطمئن بیٹھا ہوا تھا
جہاں کچھ بھی نہیں تھا دسترس میں

مرے صیّاد نے پر نوچ ڈالے
مجھے خوش دیکھ کر کنجِ قفس میں

اگر چاہے تو گلشن کو جلا دے
وہ آتش ہے تو ہے بس خار و خس میں

جو نالہ تھا زبانِ بے ہنر پر
وہ نغمہ ہے مرے تارِ نفس میں

مجھے الہام ہوتے ہیں مضامیں
کمایا ہے یہی اتنے برس میں

کلیم احسان بٹ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی