آپ الزام ہم پہ دھرتے تھے

آپ الزام ہم پہ دھرتے تھے
اس پہ سارے رقیب مرتے تھے

وہ کسی طور مانتا ہی نہیں
ہم نے سارے طریق برتے تھے

تیرے کوچے سے لوٹنے والے
کون کہتا ہے عشق کرتے تھے

شہر پہلے بھی جل چکا تھا کبھی
لوگ اب جگنوؤں سے ڈرتے تھے

عشق کرنے سے پیشتر بھی کلیمؔ
ہم تو روتے تھے، آہ بھرتے تھے

کلیم احسان بٹ

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا