مری آنکھوں میں کوئی اشک اتارا جائے

مری آنکھوں میں کوئی اشک اتارا جائے
ورنہ یہ عشق مرے صبر پہ وارا جائے

جس کے میں خواب میں ہوں، اس نے پکارا ہے مجھے
آنکھ کھولوں تو مرا خواب یہ سارا جائے

میرے اشعار ہی ہوں گے میرے ہونے کا جواز
کیسے ممکن ہے مجھے دل سے اتارا جائے

جس نے اک عمر ترے وصل کی صورت کی ہو
اُس کو آنکھوں سے نہیں دل سے پُکارا جائے

ہم نے جس طرح ترا ہجر گزرا طارق
تجھ سے اک پل بھی نہ اُس پل کو گزرا جائے

طارق جاوید

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل