اپنی صحبت میں دن گزرتا ہے

اپنی صحبت میں دن گزرتا ہے
ایک وحشت میں دن گزرتا ہے

جب بھی آئے وہ خواب میں میرے
تب محبت میں دن گزرتا ہے

رات کاٹوں اگر مشقت میں
پھر سہولت میں دن گزرتا ہے

جب وہ کہتی ہے مجھ کو صبح بخیر
بڑی حیرت میں دن گزرتا ہے

نیند بھی موت کا ہے دوسرا نام
یعنی مہلت میں دن گزرتا ہے

ورد کرتا ہوں تیری یادوں کا
بس تلاوت میں دن گزرتا ہے

طارق جاوید

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا