میرے وطن کی جان تھے عبدالقدیر خان

میرے وطن کی جان تھے عبدالقدیر خان
میرے وطن کی شان تھے عبدالقدیر خان

میرے وطن کو ایٹمی قُوّت بنا دیا
میرے وطن کا مان تھے عبدالقدیر خان

دُشمن کی کیا مجال جو دیکھے وہ اِس طرف
مضبوط سائبان تھے عبدالقدیر خان

دُشمن سے بچنے کا بھی وہ سامان کر گئے
ایسی کڑی کمان تھے عبدالقدیر خان

تعبیر بن گئے ہیں وہ قائد کے خواب کی
مِلّت کے پاسبان تھے عبدالقدیر خان

دُشمن کو زیربار کِیا اِس طرح کہ بس
مِثلِ فلک اُٹھان تھے عبدالقدیر خان

“شہناز” وطن کو کِیا محفُوظ اُنہوں نے
یُوں فخرِ پاکستان تھے عبدالقدیر خان

شہناز رضوی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی