مجھے نہ چھوڑنا سے مجھے نہ چھونا تک
میرے پاس تم ہو
ایک عجیب مافوق افطرت ڈرامہ جس کا رائٹر خود کوخدا سمجھ رہا ہے تو کچھ غلط نہیں سمجھ رہا کیونکہ ایسے وفادار اور محبت میں مرنے والے کردار اصلی خدا نے
کون سی وفا بابا کون سا کردار کون سی حیا کون سی مروت کون سی نیکی آج کل نیکی کرنے والے کو جوتیوں کے ہار کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے ۔وہ عورت ماہا جو اپنے شوہر سے علیحدگی میں رہ رہی تھی وہ بھی اینڈ پر ایسے ایسے محبت کے فلسفے بھگارتی ہے کہ اتنی کتابیں پڑھ کر بھی احساس محرومی سی لگی کہ ہم کو نہ پتہ چلا اس محبت کا
مفاد پرستی،موقع پرستی اور منافقت کے اس دور میں جب سگے رشتے دل میں بغض رکھ کے ملتے ہیں،استعمال کرتے اور پھینک دیتے اور جس نے احسان کیا ہو یا سچا پیار کیا ہو اس کا ٹھٹھہ لگاتے ہیں کہ بڑی آئی یا آیا خلوص دکھانے والا یا محبت کرنے والا ۔۔۔مذاق اڑایا جاتا ہے اور سچائی کو دنیا کی حقیر چیز ثابت کیا جاتا ہے نیکی کرنے والا سر جھکائے اپنے کئے پر نادم ہونے کے سوا کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔ تو ایسے میں دانش جیسے سیانے اور باحیا باوفا کردار لکھنے والے رائٹر کو خود کو خدا اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کا مکمل حق ہے ۔زندہ باد ڈراموں میں اتنی بونگیاں چھوڑنے والے رائٹر کہ لوگ خوشی سے دیوانے ہو اٹھے کہ یہ سب نایاب چیزیں کہیں تو دیکھنے کو ملیں ۔۔۔۔۔ زندہ باد۔چھونا نہیں چھونا نہیں ۔
روبینہ فیصل