میرے دل میں اٹھا ہے سوال آج کل

میرے دل میں اٹھا ہے سوال آج کل
تیرا ہی رہتا ہے کیوں خیال آج کل

تیرے دیدار میں منتظر ہی رہی
میری شوخ_ نظر بے مثال آج کل

عشق نے اتنا لاچار کر ڈالا ہے
پیار نے کر دیا یوں نڈھال آج کل

حسن کے جلووں کی تو کیا بات ہے
اس کی خوشبو میں جادو کمال آج کل

کیا اسے لوگ دیوانگی کہتے ہیں
ہو گیا ہے مرا بھی جو حال آج کل

اب محبت پہ اپنی ٹکے ہی رہیے
منفرد ہے عدو کی بھی چال آج کل

بے سبب شعر میری غزل کے ہوئے
چھڑ رہے ہیں مسلسل ہی تال آج کل

کویتا غزل مہرا

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا