میں صدا فقیری ہوں مجھ میں ہو زیادہ ہے

میں صدا فقیری ہوں مجھ میں ہو زیادہ ہے
مجھ میں یار میں کم ہوں اور تو زیادہ ہے

وقت کے خداؤں سے روز جو الجھتا ہوں
شاید ان رگوں میں بھی کچھ لہو زیادہ ہے

کچھ تو بولئے صاحب شور کا فسوں ٹوٹے
آپ کی خموشی میں گفتگو زیادہ ہے

تھرتھراتے ہونٹوں کی سسکیاں بتاتی ہیں
شہر جاں کی گلیوں میں ہاؤ ہو زیادہ ہے

زرد سوکھے پتوں میں بھی انا تو ہوتی ہے
مانا تازہ پھولوں میں رنگ بو زیادہ ہے

شاہ دلؔ ترے دل کو چین کیوں نہیں آتا
جب لباس فرقت بھی کچھ رفو زیادہ ہے

شاہ دل شمس

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا