میں نے کچھ اور کہا آپ سے

میں نے کچھ اور کہا آپ سے اور آپ نے کچھ اور سنا
مجھ میں لفظوں کو برتنے کا سلیقہ ہی نہیں ہے شاید

جب بھی ملئے وہی شکوے وہی ماتھے پہ شکن رہتی ہے
آپ سے کوئی ملے آپ کا منشا ہی نہیں ہے شاید

میں نے تو پرسشِ احوال بھی کی اور مخاطب بھی ہوا
حسنِ اخلاق مگر آپ کا شیوہ ہی نہیں ہے شاید

بات اب منزلِ تشہیر تک آ پہنچی جستہ جستہ
اب بجز ترکِ تعلق کوئی رستہ ہی نہیں ہے شاید

آپ کچھ بھی کہیں ناقابلِ تردید حقیقت ہے یہ
آپ کو میری صداقت پر بھروسہ ہی نہیں ہے شاید

اب وہ احباب نہ ماحول نہ آداب نہ پرسش نہ سلام
اب تو محفل میں کوئی اپنا شناسا ہی نہیں ہے شاید

حاکم شہر پہ تنقید کا اقبالؔ نتیجہ معلوم
اور وہ یہ کہ تمھیں شہر میں رہنا ہی نہیں ہے شاید

سیّد اقبال عظیم

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی