میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئے

میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئے

میں ہی میں ہوں پھر مجھے کیا چاہئے

غرق خم ہونا میسر ہو تو بس

چاہئے ساغر نہ مینا چاہئے

منحصر مرنے پہ ہے فتح و شکست

کھیل مردانہ ہے کھیلا چاہئے

بے تکلف پھر تو کھیوا پار ہے

موجزن قطرہ میں دریا چاہئے

تیز غیروں پر نہ کر تیغ و تبر

آپ اپنے سے مبرا چاہئے

ہو دم عرض تجلی پاش پاش

سینہ مثل طور سینا چاہئے

حسن کی کیا ابتدا کیا انتہا

شیفتہ بھی بے سر و پا چاہئے

پارسا بن گر نہیں رندوں میں بار

کچھ تو بیکاری میں کرنا چاہئے

کفر ہے ساقی پہ خست کا گماں

تشنہ سرگرم تقاضا چاہئے

اسماعیلؔ میرٹھی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل