موسموں کو ہرا کرو صاحب

موسموں کو ہرا کرو صاحب
بارشوں کی دعا کرو صاحب

چاند نکلے ہمارے سینوں سے
دم کرو معجزہ کرو صاحب

کھڑکیاں کھول دو فرشتوں کو
آنے جانے دیا کرو صاحب

چار گز ہی سہی زمین تو ہے
رقص کرتے رہا کرو صاحب

ساری چڑیاں اُڑا دو پنجرے سے
قیدیوں کو رِہا کرو صاحب

تجدید قیصر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی