کیا آنکھیں کیا سپنا سائیں

کیا آنکھیں کیا سپنا سائیں
جس نے جتنا دیکھا سائیں

بے گانہ ہے سب دنیا سے
میرا رنگ رنگیلا سائیں

برفیلی چوٹی پہ جا کر
کس نے دیا جلایا سائیں

تیرے دیکھے پہ ہنستے تھے
ورنہ، اپنا کیا تھا سائیں

شعلوں جیسی آنکھوں والا
صبحوں جیسا اجلا سائیں

تجدید قیصر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا