مٹّی میری ، آسمان میرا

مٹّی میری ، آسمان میرا

اک شخص تھا کُل جہان میرا

سورج سے کڑی تھی دھوپ جس کی

کیا پیڑ تھا سائبان میرا

اک پھول تلے چٹخ رہا ہے

یہ شیشۂ سخت جان میرا

میں ٹُوٹ کے جڑ نہیں سکوں گا

دُنیا پہ نہ کر گمان میرا

اِس پل مجھے کون دے تسلّی

تُو بھی نہیں میری جان میرا

اے وہ کہ جسے بھلا چکا ہوں

ہٹتا نہیں تجھ سے دھیان میرا

اک پھول تلے چٹخ رہا ہے

یہ شیشۂ سخت جان میرا

اے وہ ، کہ جسے بھلا چکا ہوں

ہٹتا نہیں تجھ سے دھیان میرا

 

سعود عثمانی

 

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی