ہے درد سِوا اِس آن میرا

ہے درد سِوا اِس آن میرا

تھمتا ہی نہیں بیان میرا

کس شیش محل میں بُجھ گیا ہے

جلتا ہوا شمع دان میرا

اِس راہ پہ بھٹک رہا ہوں کب سے

اور سامنے ہے مکان میرا

مُنصف نے ابھی سُنا نہیں ہے

اور ختم ہوا بیان میرا

میں ضبط بہت کیا ہوں صاحب

مت پوچھیو امتحان میرا

 

سعود عثمانی

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

نوحہ ایک دھرتی کا

اسیرِ بے زباں