مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں

مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں
تیرے بغیر زیست تو ہے زندگی نہیں

میں درد عاشقی کو سمجھتا ہوں جان و روح
کمبخت وہ بھی دل میں کبھی ہے کبھی نہیں

لا غم ہی ڈال دے مرے دست سوال میں
میں کیا کروں خوشی کو جو تیری خوشی نہیں

کچھ دیر اور رہنے دے خودداری جنوں
دامن تو چاک ہونا ہے لیکن ابھی نہیں

ساقی نگاہ ناز سے للہ کام لے
سو جام پی چکا ہوں مگر بے خودی نہیں

رکھنا پڑے گی تم کو تہی دامنی کی لاج
مجھ کو کمی ضرور ہے تم کو کمی نہیں

بہزادؔ صاف صاف میں کہتا ہوں حال دل
شرمندۂ کمال مری شاعری نہیں

بہزاد لکھنوی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا