یہ لوگ کرتے ہیں منسوب جو بیاں تجھ سے

یہ لوگ کرتے ہیں منسوب جو بیاں تجھ سے

سمجھتے ہیں مجھے کر دیں گے بد گماں تجھ سے

جہاں جہاں مجھے تیری انا بچانا تھی

شکست کھائی ہے میں نے وہاں وہاں تجھ سے

مرے شجر مجھے بازو ہلا کے رخصت کر

کہاں ملیں گے بھلا مجھ کو مہرباں تجھ سے

خدا کرے کہ ہو تعبیر خواب کی اچھی

ملا ہوں رات میں پھولوں کے درمیاں تجھ سے

جدائیوں کا سبب صرف ایک تھا تیمورؔ

توقعات زیادہ تھیں جان جاں تجھ سے

تیمور حسن تیمور

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل