میں کیا ہوں اس خیال سے

میں کیا ہوں اس خیال سے لگتا ہے ڈر مجھے
کیوں دیکھتے ہیں غور سے اہلِ نظر مجھے

لے جاو ساتھ ہوش کو اے اہلِ ہوش جاو
ہے خوب اپنی بے خبری کی خبر مجھے

بدلی ہوئی نگاہ کو پہچانتا ہوں میں
دینے لگے پھر آپ فریبِ نظر مجھے

گم ہو گیا ہوں بے خودئ زوقِ عشق میں
اے عقل جا کے لا تو ذرا ڈھونڈ کر مجھے

میں اپنی زندگی کو بُرا کیوں کہوں حفیظ
رہنا ہے اس کے ساتھ میاں عُمر بھر مجھے

 

حفیظ جالندھری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی