مغرور تھا بہت ، اسے مجبور کر دیا

مغرور تھا بہت ، اسے مجبور کر دیا
قسمت نے راجپوت کو مزدور کر دیا

کٹوا کے اپنی ٹانگ لگا بھیک مانگنے
اک شخص روزگار نے معذور کر دیا

آئی ہیں اس ادا سے غلط فہمیاں قریب
کچھ دوستوں کو دوستوں سے دُور کر دیا

کِتنے ہی لوگ شہر میں گُمنام مر گئے
شاعر کو ایک شعر نے مشہور کر دیا

کیفی عمل پہ اپنے زرا پھر سے غور کر
کس شے نے تیرے چہرے کو بے نُور کر دیا

(محمود کیفی)

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے