لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے
دوست اپنے ہم جفاکار نہیں رکھتے

بنا کے رکھا ہے شعار محنت کو
یوں ارادے بےکار نہیں رکھتے

جس کے ساتھ رہے، کھرے رہے
ہم اپنے اندر کوئی اداکار نہیں رکھتے

عام سے انسان ہیں اور رہیں گے
رافی، ہم خود کو شاہکار نہیں رکھتے

حسنین رافی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر