لمحۂ حال کا پیغام

وقت کا سب سے بڑا راز ہے "اب”،
کل کی اُمید نہ رکھ، کر عمل کا سبب

جو سوال اٹھے دل کے آئینے میں،
وہی ہے چراغ تری سینے میں۔

سوچ، وہ مشعل ہے راہوں کی،
یہی ہے کُلیاتِ شاہوں کی

تُو ہی ہے مرکزِ کارواں،
اپنی پہچان میں ہے جہان

نہ کر آج کا لمحہ رائگاں،
یہی ہے تری زیست کا کارواں

سوچ، سمجھ، پھر قدم بڑھا،
اپنی ذات سے عشق کی ابتدا

جو خود کو چاہے، وہی معتبر،
دوسروں سے بھی کر لے پھر دل بسر

شاکرہ نندنی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی