لہو کی لہر میں

لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیا

پھر اس کے ساتھ ہی آنکھیں گئیں بدن بھی گیا

بدلتے وقت نے بدلے مزاج بھی کیسے

تری ادا بھی گئی میرا بانکپن بھی گیا

بس ایک بار وہ آیا تھا سیر کرنے کو

پھر اس کے ساتھ ہی خوشبو گئی چمن بھی گیا

بس اک تعلق بے نام ٹوٹنے کے بعد

سخن تمام ہوا رشتۂ سخن بھی گیا

فہیم شناس کاظمی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان