لب پر کوئی شکوہ نہ گلہ

لب پر کوئی شکوہ نہ گلہ کچھ نہیں کہتا
ہر بات کا رکھتا ہوں صلہ کچھ نہیں کہتا

تہذیب کی دیوار کے پیچھے ہے جو چہرہ
ہنستا بھی ہوں ، روتا بھی سدا کچھ نہیں کہتا

اک رسم ہے ہر بات پہ حیرت سے جو تکنا
لوگوں کا یہ فن ہے نیا کچھ نہیں کہتا

دشمن کو بھی پہچان کے ملتا ہوں میں اکثر
دل میں جو ہو وہ لب پہ بھلا ؟ کچھ نہیں کہتا

اخبار میں کچھ شہر میں کچھ بات الگ ہے ؟
جھوٹا ہو اگر حرف وفا کچھ نہیں کہتا

حافظ حمزہ سلمانی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی