لا الہٰ پڑھتے ہوئے میری زباں رقص کرے
سر جو قرآں پڑھے تو نوکِ سناں رقص کرے
ہوا اُس عالمِ حیرت سے میاں میرا گزر
کہ جہاں دیپ جَلے اور دھواں رقص کرے
ایسا ممکن ہی نہیں شر بھی رہے خیر کے ساتھ
عالَمِ سچ میں بھی مغلوبِ گُماں رقص کرے
بر سرِ طور تجلیِ خدا دیکھے اور
بر سرِ طور یہ دل ہو کے نہاں رقص کرے
دشت لیلیٰ جو میسر نہیں ہے مجنوں کو
پھر بتاؤ وہ کدھر جائے کہاں رقص کرے
یہ زمانہ اُسے رہنے نہیں دے گا فیاضؔ
جو اَناالحق بھی کَہے اور یہاں رقص کرے
فیاض ڈومکی