کم ترے ضبط کی قیمت نہیں کرنے والے

کم ترے ضبط کی قیمت نہیں کرنے والے
ہم تری آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والے

اپنے نزدیک محبت ہے عبادت کی طرح
ہم عبادت کی تجارت نہیں کرنے والے

یہ الگ بات کہ اظہار نہیں کر سکتے
یہ نہ سمجھو کہ محبت نہیں کرنے والے

کاٹ کر پھینک دے سر، چاہے سجا نیزے پر
ہم ترے ہاتھ پہ بیعت نہیں کرنے والے

حاکمِ وقت! ذرا اپنے گریبان میں جھانک
لوگ بے وجہ بغاوت نہیں کرنے والے

شبیرنازش

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے