کچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے

کچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے

ہم سے کچھ کچھ رنجیدہ ہے

چل دِل کی راہ سے ہو کے چلیں

دلچسپ ہے اور پیچیدہ ہے

بیدار نہیں ہے کوئی بھی

جو جاگتا ہے خوابیدہ ہے

ہم کس سے اپنی بات کریں

ہر شخص ترا گرویدہ ہے

 

گلزار

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا