حواس کا جہان ساتھ لے گیا

حواس کا جہان ساتھ لے گیا

وہ سارے بادبان ساتھ لے گیا

بتائیں کیا، وہ آفتاب تھا کوئی

گیا تو آسمان ساتھ لے گیا

کتاب بند کی اور اُٹھ کے چل دیا

تمام داستان ساتھ لے گیا

وہ بے پناہ پیار کرتا تھا مجھے

گیا تو میری جان ساتھ لے گیا

میں سجدے سے اُٹھا تو کوئی بھی نہ تھا

وہ پاؤں کے نشان ساتھ لے گیا

سِرے اُدھڑ گئے ہیں صبح و شام کے

وہ میرے دو جہان ساتھ لے گیا

 

گلزار 

Related posts

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا