کچھ لکیریں روز نقشے سے مٹا دیتی ہے آگ​

کچھ لکیریں روز نقشے سے مٹا دیتی ہے آگ​
کیسے کیسے شہر مٹّی میں ملا دیتی ہے آگ​

زندہ رہنا، جلتے رہنے کے برابر ہے مگر​
زندگی اک آگ ہے کندن بنا دیتی ہے آگ​

جو کلی کھلتی ہے کیاری میں، جلا دیتی ہے دھوپ​
جو دیا جلتا ہے دھرتی پر، بجھا دیتی ہے آگ​

ایک بچہ بھی ملا جھلسے ہوئے افراد میں​
پیڑ کے ہمراہ گُل بوٹے جلا دیتی ہے آگ​

یاد اب اوّل تو آتی ہی نہیں اُس کی شعورؔ​
اور آتی ہے تو سینے میں لگا دیتی ہے آگ​

انور شعور

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی