بشارت ہو کہ اب مجھ سا کوئی پاگل نہ آئے گا

بشارت ہو کہ اب مجھ سا کوئی پاگل نہ آئے گا
یہ دورِ آخرِ دیوانگی ہے، بیت جائے گا

کسی کی زندگی ضائع نہ ہوگی اب محبت میں
کوئی دھوکا نہ دے گا اب کوئی دھوکا نہ کھائے گا

نہ اب اُترے گا قدسی کوئی انسانوں کی بستی پر
نہ اب جنگل میں چرواہا کوئی بھیڑیں چرائے گا

گروہِ ابنِ آدم لاکھ بھٹکے، لاکھ سر پٹکے
اب اس اندر سے کوئی راستہ باہر نہ آئے گا

بشر کو دیکھ کر بے انتہا افسوس ہوتا ہے
نہ معلوم اس خراباتی کو کس دن ہوش آئے گا

مٹا بھی دے مجھے اے مصور! تا بہ کہ آخر
بنائے گا بگاڑے گا، بگاڑے گا بنائے گا

محبت بھی کبھی اے دوست! تردیدوں سے چھپتی ہے
کسے قائل کرے گا تو، کسے باور کرائے گا

غنیمت جان اگر دو بول بھی کانوں میں پڑ جائیں گے
کہ پھر یہ بولنے والا نہ روئے گا ، نہ گائے گا

شعور آخر اُسے ہم سے زیادہ جانتے ہو تم؟
بہت سیدھا سہی لیکن تمھیں تو بیچ کھائے گا

انور شعورؔ​

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا