کوئی عزت مآب مانگے گا

کوئی عزت مآب مانگے گا
سب کا لب لباب مانگے گا

تھرتھرائیں گے ظلم کے پیکر
خونِ ناحق حساب مانگے گا

گوشوارے کھلیں گے مقتل کے
وقت سب کا نصاب مانگے گا

رقصِ بسمل پہ جھومنے والا
خشک ہونٹوں سے آب مانگے گا

جب کھلیں گے نقاب چہروں سے
آئنہ بھی حجاب مانگے گا

کل کا سورج قلم فروشوں سے
سچ پہ مبنی کتاب مانگے گا

جس کو رکھا گیا اندھیرے میں
لازماً آفتاب مانگے گا

جب کٹہرے میں آئے گا منصف
تو زمانہ جواب مانگے گا

منزہ سید

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا