ہمیں راس آئی نہیں زندگی

ہمیں راس آئی نہیں زندگی
ہر اک موڑ پر ہم پہ ہنستی رہی

زمیں آسماں ہم سے تھے اجنبی
ہمیں مل کے روتی رہی بےبسی

کہاں کون پاؤں تلے آ گیا
زمانے نے مڑ کر نہ دیکھا کبھی

مرے چارسُو تھی گھٹن اس قدر
کہ ہر سانس لگتی رہی آخری

امر بیل تنہائی کی عمر بھر
مرے قلبِ ویراں سے لپٹی رہی

مقدر میں سب کچھ جو طے ہو چکا
تو پھر کیوں کسی پر ہنسے آدمی

منزہ سید

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا