کیا ملے گی ہمیں خبر اپنی

کیا ملے گی ہمیں خبر اپنی
ہے گراں خود پہ اک نظر اپنی

دوسروں کے بھلے میں بھی اے دوست
فکر ہوتی ہے بیشتر اپنی

اک سحر ظلمت جہاں سے دور
کہہ سکیں ہم جسے سحر اپنی

کارواں ہے قریب منزل کے
اب کرے فکر راہبر اپنی

پوچھتے ہیں جہاں کی ہم باقیؔ
اور کہتا ہے چارہ گر اپنی

باقی صدیقی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل