کتنے خدشوں نے سر نکالے تھے

کتنے خدشوں نے سر نکالے تھے
جب پرندے نے پر نکالے تھے

چند تارے تمہاری یادوں کے
میں نے وقتِ سحر نکالے تھے

تجھ سے دوری کے وسوسے دل سے
تھے تو دشوار پر نکالے تھے

تھی تو مصروفیت تری خاطر
چند لمحے مگر نکالے تھے

صنفِ نازک نے کتنی مشکل سے
اپنے اندر کے ڈر نکالے تھے

بادباں کے نکالے بل میں نے
کشتیوں سے بھنور نکالے تھے

ہوش والوں کی بزم سے عنبر
آج کچھ بے خبر نکالے تھے

فرحانہ عنبر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے