کسی دن کام آ جائے گی استادی ہماری

کسی دن کام آ جائے گی استادی ہماری
ہمارے نام ہو جائے گی شہزادی ہماری

ہماری گوتمی زنبیل سے دنیا اٹھاؤ
محبت دیکھنے آئی ہے بربادی ہماری

پہاڑی لڑکیاں ہیں ایک دن پوچھے بنا ہی
کسی انجان سے ہو جائے گی شادی ہماری

ہمارے ہاتھ کے پالے ہوئے لشکر ہمارے
ہمیں سے چھیننے آئے ہیں آزادی ہماری

اُسے گا کر سنایا رام اور سیتا کا قصہ
بالآخر دیوداسی ہو گئی عادی ہماری

مسلسل کٹ رہی ہے بٹ رہی ہے گھٹ رہی ہے
درندوں میں گِھری جنت نما وادی ہماری

یہاں سے دور جائیں اور اندازہ لگائیں
کہاں تک زندگی ہے غیر میعادی ہماری

پکڑ کر انگلیاں ساجد ہمیں چلنا سکھایا
سدا رحمت کے سائے میں رہے دادی ہماری

لطیف ساجد

Related posts

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

ملازمت بہتر یا کاروبار

زندگی بھر فکر کرتے رہے