کسے تم نے پرکھنا ہے

کسے تم نے پرکھنا ہے کسے اب آزمانا ہے
تمھاری بزم سے اٹھ کر بلا اب کس نے جانا ہے

ہمیں درد و مصائب میں جو تنہا چھوڑ جاتے ہیں
پھر ایسے دوستوں کو کس لیے واپس بلانا ہے

ہو بے معنی و مطلب پھر بھی وہ کتنا مقدس ہے
تمھاری انجمن میں ہم نے جو نغمہ سنانا ہے

خدایا رحم خط ان کو جنوں میں لکھ تو بیٹھے ہم
طلب پر اُس مہِ کامل کو کیسے منہ دکھانا ہے

تعین اُس کی راؤں کا ہوا کی لہر کرتی ہے
شجر سے ٹوٹ کر پتے نے کس جانب کو جانا ہے

سردار حمادؔ منیر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی