جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

نالہ فریاد آہ اور زاری
آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا

ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا

زور عاشق مزاج ہے کوئی
دردؔ کو قصہ مختصر دیکھا

خواجہ میر درد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان