کس طرح کی دل لگی

کس طرح کی دل لگی یہ کس طرح کا پیار ہے
بے رخی بیگانگی انکار پر انکار ہے

آپ نے اب چھوڑنے کا فیصلہ جو کر لیا
کون ہوتے ہیں ہمیں کیا حجت و تکرار ہے

میں تو اک آوارہ پنچھی جس کا کوئی گھر نہیں
آپ کو تو زندگی میں مال و زر درکار ہے

درد دل کس سے بیاں کرتے ہمارا کون ہے
ہر کسی سے درد دل کہنا بھی تو بے کار ہے

آپ کی چاہ ہے کہ پہلے سا یقیں ہم پھر کریں
ٹوٹ کر پہلے سا شیشہ چھوڑنا دشوار ہے

تجھ سے واعظ ہے فقط اتنا گلہ ناچیز کو
تو سراپا علم ہے نہ صاحبِ کردار ہے

آپ کی یہ گفتگو یہ بات کرنے کا ہنر
حامی محفل میں رقیبوں کے لیے تلوار ہے

سردار حمادؔ منیر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی